زیر نگیں
معنی
١ - تصرف یا اختیار میں، مطیع، محکوم، مسخر۔ "جب حکومت ایسٹ انڈیا کمپنی کے ہاتھ سے نکل کر براہ راست تاج برطانیہ کے زیر نگیں آگئی تو اخبار ملکی مسائل پر رائے زنی کرنے لگے۔" ( ١٩٨٥ء، مولانا ظفر علی خاں بحیثیت صحافی، ٢٩ )
اشتقاق
فارسی زبان سے ماخوذ صفت 'زیر' کے آخر پر کسرۂ صفت لگا کر فارسی اسم 'نگیں' لگانے سے مرکب توصیفی بنا۔ اردو میں بطور صفت استعمال ہوتا ہے۔ ١٦٤٩ء کو "خاورنامہ" میں مستعمل ملتا ہے۔
مثالیں
١ - تصرف یا اختیار میں، مطیع، محکوم، مسخر۔ "جب حکومت ایسٹ انڈیا کمپنی کے ہاتھ سے نکل کر براہ راست تاج برطانیہ کے زیر نگیں آگئی تو اخبار ملکی مسائل پر رائے زنی کرنے لگے۔" ( ١٩٨٥ء، مولانا ظفر علی خاں بحیثیت صحافی، ٢٩ )